قطری وزیر خارجہ نے امن کی سپلائی چین بنانے کے لیے ’تھرائیونگ اسٹیٹس‘ اتحاد تجویز کر دیا
قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے آکسفورڈ یونین میں خطاب کرتے ہوئے چھوٹی ریاستوں کے لیے ’تھرائیونگ اسٹیٹس‘ اتحاد تجویز کیا ہے، تاکہ وہ مل کر عالمی امن کی سپلائی چین بنا سکیں۔

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے چھوٹی ریاستوں کے لیے ایک نیا اتحاد تجویز کیا ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی امن میں اجتماعی کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز جمعے کے روز آکسفورڈ یونین میں خطاب کرتے ہوئے پیش کی، جہاں انہوں نے کہا کہ چھوٹی ریاستوں کو سفارتی غیر فعالیت ترک کر کے اپنی سفارتی طاقت کو یکجا کرنا چاہیے۔
شیخ محمد نے ان ریاستوں کو تھرائیونگ اسٹیٹس کا نام دیا اور کہا کہ یہ وہ مستحکم، خوشحال اور قابل اعتماد اقوام ہیں جنہوں نے اپنے چھوٹے سائز کو فائدے میں بدل دیا ہے اور عالمی امن و خوشحالی میں اہم شراکت دار بن گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی ریاستوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سائز طاقت کی پیمائش نہیں ہے، بلکہ مستحکم قیادت، دور اندیش پالیسی اور سفارتی مہارت ہی اصل طاقت ہے۔
قطری وزیر خارجہ نے زور دیا کہ چھوٹی اقوام کو اپنی سفارتی اثر و رسوخ کو یکجا کر کے عالمی امن کی ایک اجتماعی سپلائی چین بنانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چھوٹی ریاستیں مل کر کام کریں تو وہ بڑے تنازعات کو حل کرنے اور امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کئی تنازعات اور کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔
آکسفورڈ یونین میں اپنے خطاب کے دوران شیخ محمد نے ثالثی کے موضوع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ نے امریکی انتظامیہ کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے، اور امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ بحران کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ قطر نے حالیہ برسوں میں مختلف تنازعات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر جانا جاتا ہے۔
شیخ محمد کی یہ تجویز چھوٹی ریاستوں کے لیے ایک نئی سوچ پیش کرتی ہے۔ قطر خود اس کی ایک مثال ہے، جس نے اپنے چھوٹے سائز کے باوجود عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار حاصل کیا ہے۔ توانائی کے وسائل، سفارتی سرگرمیوں اور ثالثی کی کوششوں کے ذریعے قطر نے عالمی برادری میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تھرائیونگ اسٹیٹس کا تصور چھوٹی ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ اگر یہ ریاستیں مل کر کام کریں تو وہ امن، تجارت اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ شیخ محمد کی تجویز پر آنے والے دنوں میں مزید بحث ہونے کی توقع ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ دیگر چھوٹی ریاستیں اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.