وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے
وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران وزیر اعلیٰ کے دفتر کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔ گورنر روزمرہ امور چلائیں گے اور ماہانہ جائزہ رپورٹ وفاقی حکومت کو دیں گے۔

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں جاری ایمرجنسی کے دوران وزیر اعلیٰ کے دفتر کے اختیارات صوبے کے گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ چار نومبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا روزمرہ کے انتظامی امور چلائیں گے، اور اختیارات کے استعمال کے بارے میں وفاقی حکومت کو ماہانہ جائزہ رپورٹ پیش کریں گے۔
یہ فیصلہ صوبے میں گیارہ اکتوبر کو لگائی گئی ایمرجنسی اور گورنر راج کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی تھی، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت معطل ہو گئی تھی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال لیے تھے، اور ان کی معاونت کے لیے گیارہ رکنی تکنیکی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ اعلان کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت صوبائی وزرا، مشیران اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدوں سے فارغ ہو گئے تھے۔
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام صوبے میں سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا۔ وزیر اعظم آفس نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ طور پر الگ ہو گئی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، اگرچہ ان کی حراست کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
قانون کے مطابق ایمرجنسی کا یہ انتظام ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا تھا کہ گورنر مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبے کے انتظامی امور چلائیں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے پندرہ اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دے دی تھی۔
کابینہ کے تازہ فیصلے سے گورنر کا کردار مزید واضح ہو گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ مشاورتی کونسل صوبے میں امن و امان اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.