عمان اور ایران کا آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بلا رکاوٹ بحال کرنے پر اتفاق، پائیدار مفاہمت پر زور
عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فون پر گفتگو میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بلا رکاوٹ بحال کرنے اور خطے میں جنگ کی کیفیت ختم کرنے کے لیے پائیدار مفاہمت پر زور دیا۔

عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بلا رکاوٹ بحال کرنے اور خطے میں جنگ کی کیفیت ختم کرنے کے لیے پائیدار مفاہمت پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جمعرات پانچ نومبر کو ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمان کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ بیان میں اس گفتگو کی تفصیل بتائی۔
عمانی وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملک آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بغیر کسی رکاوٹ کے بحال کرنے کی کوششوں پر غور کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق دونوں وزرا نے عملی، سیاسی اور تکنیکی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے جاری رابطوں اور بات چیت کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان مفاہمتوں کا مقصد سمندری راستوں کی حفاظت یقینی بنانا اور بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی روانی کو بلاتعطل جاری رکھنا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اب کشیدگی کم کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پائیدار مفاہمتوں کو مضبوط کرنے کے مرحلے کی طرف جانا ضروری ہے۔ عمان کی وزارت خارجہ کے مطابق ان مفاہمتوں کا مقصد جنگ کی کیفیت ختم کرنا اور خطے میں دوبارہ تصادم کی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا ہے۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ فروری 2026 سے جاری ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسی روز سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ان گفتگوؤں میں بھی خطے کی تازہ ترین صورتحال اور امریکہ اسرائیل جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر بات ہوئی۔ عراقچی نے کویت اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا۔
قطر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں فریق ثالثوں کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر اپنی ناکہ بندی ختم کرے۔ عمان روایتی طور پر خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کی یہ کوشش سفارتی حل کی طرف ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.