ٹرمپ ایران کی امن تجویز سے مطمئن نہیں، نئے حملوں پر غور
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ امن تجویز سے مطمئن نہیں۔ نئے حملوں، معاشی دباؤ یا معاہدے کے آپشنز پر غور جاری ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ ترین امن تجویز سے مطمئن نہیں ہیں اور نئے حملوں سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو ایک ایٹمی تجویز بھیجی ہے، جس کا واشنگٹن جائزہ لے رہا ہے۔ ٹرمپ نے بدھ اور جمعرات کو اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جلد فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ایران کے ایٹمی پروگرام کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید حملے کیے جائیں۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ وہ ایران کے باقی ماندہ حصے کو تباہ نہیں کرنا چاہتے، لیکن شاید انہیں ایسا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ جلد سامنے آ جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ تین راستوں پر غور کر رہے ہیں: نئے فضائی حملے، ایران پر معاشی دباؤ میں مزید اضافہ، یا ایسا معاہدہ جس میں تہران بڑی رعایتیں دے۔ یہ بات واضح رہے کہ ابھی تک کسی بھی آپشن پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور حملوں کو صرف زیر غور آپشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ ممکنہ بڑی کارروائی کی تیاریاں مکمل کر رہی ہے، تاہم ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ابھی کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کے لیے سات شرائط پیش کر دی ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے جمعرات کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد کہا کہ جب تک امریکہ ساتوں شرائط پوری نہیں کرتا، نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ مذاکرات ہوں گے۔ ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کا معاوضہ اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہیں۔
قطر کی ثالثی میں دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے دو مرحلوں پر مبنی ایک مجوزہ منصوبے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلے روز امریکہ بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کے کچھ منجمد فنڈز جاری کرے گا، جبکہ ایران عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنی ایٹمی تنصیبات کے دورے کی دعوت دے گا۔ دوسرے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی اور ایٹمی مذاکرات بحال ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عمان اور مصر کے ثالثوں سے رابطہ کیا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.