قازقستان اور چین نے سلک روڈ پروازوں میں اضافہ کر دیا
قازقستان اور چین کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی اجازت 150 سے بڑھا کر 180 کر دی گئی ہے۔ تاشقند میں ہونے والی کانفرنس میں چینگدو اور کاشغر کو بھی دونوں ملکوں کے فضائی نیٹ ورک میں شامل کر لیا گیا۔

قازقستان اور چین نے اپنے درمیان فضائی رابطوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سفر اور تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔ تاشقند میں 3 سے 5 نومبر تک ہونے والی چین وسطی ایشیا سی فائیو پلس ون سول ایوی ایشن کوآپریشن ورکنگ گروپ کی تیسری کانفرنس میں آستانہ اور بیجنگ کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی اجازت 150 سے بڑھا کر 180 کر دی گئی۔ یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فضائی رابطوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت چینگدو اور کاشغر کو بھی دونوں ملکوں کے فضائی نیٹ ورک میں شامل کر لیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو مزید مقامات تک سفر کرنے کا موقع ملے گا۔ کاشغر خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ شہر تاریخی سلک روڈ پر واقع ہے اور چین کے مغربی علاقے کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ چینگدو بھی چین کا ایک بڑا شہر ہے اور اس کی شمولیت سے دونوں ملکوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوں گے۔
اس کانفرنس میں چین، قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے سول ایوی ایشن حکام نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد وسطی ایشیا اور چین کے درمیان فضائی رابطوں کو بہتر بنانا اور خطے میں سیاحت و تجارت کو فروغ دینا تھا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فضائی رابطوں میں اضافہ خطے کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اکتوبر 2026 کے آخر کے شیڈول کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان 21 راستوں پر 117 پروازیں چل رہی تھیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ ہیں۔ جنوری 2026 سے اب تک ان پروازوں میں 10 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفر کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ 180 کا عدد ہفتہ وار اجازت شدہ پروازوں کی تعداد ہے، نہ کہ اس وقت چلنے والی پروازوں کی۔ اس وقت 117 پروازیں چل رہی ہیں، اور نئی اجازت سے ایئر لائنز کو مزید پروازیں شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی رابطوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
یوریشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق قازقستان 2025 میں خطے کے فضائی ٹریفک کا 48.7 فیصد حصہ پیدا کرتا ہے اور اس کا منصوبہ ہے کہ وہ چین کے 30 مقامات تک رابطہ قائم کرے۔ ایئر آستانہ نے جون 2026 میں آستانہ سے گوانگژو کا راستہ شروع کیا تھا اور 30 اکتوبر 2026 کو چائنا سدرن ایئر لائنز کے ساتھ شراکت داری قائم کی تاکہ شیڈول کو مربوط کیا جا سکے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.