اے آئی مخالف مظاہرین ایمسٹرڈیم میں مائیکروسافٹ ڈیٹا سینٹر کی تعمیراتی سائٹ میں داخل
نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں اے آئی مخالف سو سے زائد مظاہرین مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹر کی تعمیراتی سائٹ میں داخل ہو گئے، کچھ مظاہرین کرین پر بھی چڑھ گئے۔ مظاہرین بجلی اور پانی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں جمعہ کے روز سو سے زائد اے آئی مخالف مظاہرین مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹر کی تعمیراتی سائٹ میں داخل ہو گئے۔ مظاہرین میں سے کچھ افراد سائٹ کے اندر جا کر ایک کرین پر چڑھ گئے۔ یہ واقعہ ایمسٹرڈیم کے سلوٹردائیک علاقے میں واقع تعمیراتی سائٹ پر پیش آیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز بجلی اور پانی کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں اور ان سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔
یہ احتجاج ڈچ کارکن گروپ گیف ٹیگن گاس کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ یہ گروپ بین الاقوامی مہم اسٹاپ ڈرٹی ڈیٹا سینٹرز کا حصہ ہے جس کے تحت چھ اور سات نومبر کو یورپ کے کئی ممالک میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مہم کا مقصد ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ماحولیاتی اثرات کی طرف توجہ دلانا ہے۔
حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں اور ان کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی وسائل پر دباؤ پڑتا ہے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہوتا ہے۔
ایمسٹرڈیم میں ہونے والا یہ احتجاج یورپ بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی تشویش کی ایک مثال ہے۔ کئی یورپی ممالک میں مقامی کمیونٹیز نے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مراکز سے مقامی لوگوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا جبکہ ان کے وسائل پر دباؤ ضرور بڑھتا ہے۔
مائیکروسافٹ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں اپنے کلاؤڈ اور اے آئی کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے کئی ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی کے استعمال اور ماحول دوست طریقوں پر کام کر رہی ہے، تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے نعرے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ کچھ مظاہرین سائٹ کے اندر داخل ہو گئے اور کرین پر چڑھ گئے جس کے بعد سیکیورٹی حکام کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنا پڑے۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین کے سائٹ میں داخل ہونے سے تعمیراتی کام متاثر ہوا تاہم اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ تعمیراتی کام مکمل طور پر رک گیا تھا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.