بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام میں لکھا کہ سفید جرسی کو الوداع کہہ رہے ہیں، تاہم ان کی ریٹائرمنٹ صرف ٹیسٹ کرکٹ تک محدود ہے۔

بھارتی فاسٹ بولر محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے چھ نومبر کو سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ شکریہ ٹیسٹ کرکٹ۔ ان کا یہ پیغام ان کے ٹیسٹ ڈیبیو کے ٹھیک تیرہ سال بعد آیا ہے کیونکہ انہوں نے چھ نومبر 2013 کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
شامی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ میں سفید جرسی کو الوداع کہہ رہا ہوں لیکن اس سے جڑی یادوں کو کبھی الوداع نہیں کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے پہلی بار بھارت کی ٹیسٹ جرسی پہنی تھی تو میرا صرف ایک خواب تھا کہ اپنے ملک کے لیے کچھ کروں۔ اس کے بعد سے ہر وکٹ، ہر جدوجہد، ہر انجری اور ہر واپسی نے مجھے کچھ نہ کچھ سکھایا ہے۔
شامی نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میرے لیے کبھی صرف ایک فارمیٹ نہیں رہی بلکہ یہ میری زندگی کا ایک انتہائی خاص حصہ رہی ہے۔ انہوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں اداروں نے ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی فاسٹ بولر نے کہا کہ اگرچہ شاید میں نے میدان پر اپنی آخری ٹیسٹ گیند پھینک دی ہے لیکن بھارت کے لیے کھیلنے کا فخر ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ ان کے اس پیغام نے کرکٹ کے شائقین کو جذباتی کر دیا اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے نیک خواہشات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یہ بات واضح رہے کہ شامی کی ریٹائرمنٹ صرف ٹیسٹ اور ریڈ بال کرکٹ تک محدود ہے۔ انہوں نے تمام کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ بھی چھوڑ رہے ہیں۔ اس لیے ان کی ریٹائرمنٹ کو مکمل کرکٹ سے کنارہ کشی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہو گا۔
محمد شامی اپنی رفتار، گیند کو پچ سے حرکت دینے اور ریورس سوئنگ کرانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کے لیے کئی اہم میچوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی اور کئی مواقع پر ٹیم کو جیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی گیند بازی نے بھارتی کرکٹ پر دیرپا اثر چھوڑا ہے۔
شامی کے کیریئر کا ایک اہم لمحہ 2023 کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ تھا جہاں وہ صرف سات میچوں میں 24 وکٹیں لے کر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بنے تھے۔ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے سات وکٹیں لے کر 57 رنز دیے تھے جو ان کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.