متحدہ عرب امارات کے صدر کی پلاؤ کے صدر سے ابوظہبی میں ملاقات
صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ابوظہبی میں پلاؤ کے صدر سورنجیل وِپس جونیئر سے ملاقات کی جس میں ترقی، قابل تجدید توانائی اور پانی کی پائیداری پر بات ہوئی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جمعرات پانچ نومبر کو ابوظہبی میں جمہوریہ پلاؤ کے صدر سورنجیل وِپس جونیئر سے ملاقات کی۔ خبر رساں ادارے وام کے مطابق پلاؤ کے صدر متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں اور یہ ملاقات ان کے کام کے دورے کے دوران ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں ترقی، معیشت، قابل تجدید توانائی، پائیداری اور ماحولیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع پر بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دسمبر دو ہزار چھبیس میں ابوظہبی میں ہونے والی اقوام متحدہ کی پانی سے متعلق کانفرنس پر بھی بات کی جس کی میزبانی متحدہ عرب امارات کرے گا۔ اس کانفرنس میں پانی کی پائیداری اور پانی تک رسائی کے مسائل پر غور کیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے بحر الکاہل جزائر فورم کے ساتھ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں متحدہ عرب امارات اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے شامل ہے۔ پلاؤ کے صدر اس فورم کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس ہفتے فورم کا ایک وفد متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہے جس کی قیادت صدر وِپس کر رہے ہیں اور فورم کے سیکریٹری جنرل بیرن دیواویسی واقا بھی وفد میں شامل ہیں۔
ملاقات میں ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان، صدارتی عدالت برائے خصوصی امور کے نائب چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن زاید النہیان اور صدر کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن طحنون النہیان سمیت کئی وزراء اور حکام نے شرکت کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحر الکاہل کے جزیرہ ممالک کے درمیان تعاون میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی پائیداری جیسے مسائل پر چھوٹے جزیرہ ممالک اور خلیجی ممالک کے مفادات مشترک ہیں۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پلاؤ آب و ہوا کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے اور سمندر کی سطح میں اضافہ اس کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اسی لیے پلاؤ پانی اور ماحولیات کے مسائل پر عالمی سطح پر سرگرم رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی قابل تجدید توانائی اور پائیدار ترقی میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور دسمبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی پانی کانفرنس کی میزبانی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے ان مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.