PAKISTAN & THE WORLDSUNDAY, NOVEMBER 8, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Business

متحدہ عرب امارات بھارت کا اہم تیل فراہم کنندہ اور اسٹریٹجک شراکت دار کیسے بنا

متحدہ عرب امارات بھارت کا چوتھا بڑا خام تیل فراہم کنندہ بن گیا؛ فجیرہ میں بھارتی تیل ذخیرہ کرنے کی تجویز پر بھی غور جاری ہے۔

متحدہ عرب امارات بھارت کا اہم تیل فراہم کنندہ اور اسٹریٹجک شراکت دار کیسے بنا
Photo supplied with article.

متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان توانائی کی شراکت داری گزشتہ برسوں میں تیزی سے گہری ہوئی ہے۔ آج متحدہ عرب امارات بھارت کے لیے خام تیل کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تیل کے شعبے میں تعاون محض خرید و فروخت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں اسٹریٹجک ذخائر اور طویل مدتی منصوبے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ شراکت داری دونوں ملکوں کی معیشتوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

مئی دو ہزار چھبیس میں بھارت کے وزیر اعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنے اسٹریٹجک تیل ذخیرے کا ایک حصہ فجیرہ میں رکھ سکتی ہے۔ فجیرہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہاں سے ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر نکل کر تیل لوڈ کر سکتے ہیں۔ اسی معاہدے کے تحت اڈنوک کو بھارت میں تیس ملین بیرل تک تیل ذخیرہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ تاہم یہ بات واضح رہے کہ فجیرہ میں ذخیرہ رکھنے کا معاملہ ابھی ایک تجویز ہے اور اسے حتمی معاہدہ نہیں کہا جا سکتا۔ اڈنوک کی چار سو چھ کلومیٹر طویل پائپ لائن بھی خام تیل کو فجیرہ تک پہنچاتی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تیل ذخیرہ کرنے کے تعاون کی تاریخ کئی سال پرانی ہے۔ مئی دو ہزار اٹھارہ میں اس ذخیرہ معاہدے کے تحت پہلی اڈنوک کھیپ روانہ ہوئی تھی۔ ایم ٹی انسپائریشن نامی جہاز نے ابوظہبی کا بیس لاکھ بیرل خام تیل منگلور میں زیر زمین غار میں پہنچایا تھا۔ اڈنوک کو بھارت میں اپنے خرچ پر پچپن لاکھ چھیاسی ہزار بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ دی گئی تھی۔ یہ قدم دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی ایک بڑی مثال تھا۔

اعداد و شمار اس شراکت داری کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ دو ہزار گیارہ سے دو ہزار بارہ کے مالی سال میں بھارت نے متحدہ عرب امارات سے پندرہ اعشاریہ ایک ارب ڈالر کا تیل خریدا تھا۔ یہ رقم اس وقت بھارت کے تیل درآمدی بل کا آٹھ اعشاریہ سات فیصد تھی۔ یہ اعداد بھارتی تجارتی اعداد و شمار سے لیے گئے ہیں جن کا حوالہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالائسز نے دیا ہے۔ اس وقت سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

دو ہزار چھبیس تک صورتحال مزید مستحکم ہو چکی ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات اب بھارت کے لیے خام تیل کا چوتھا بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات بھارت کے لیے مائع قدرتی گیس اور مائع پیٹرولیم گیس دونوں کا دوسرا بڑا ذریعہ بھی ہے۔ یہ درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ اماراتی توانائی بھارت کی توانائی سلامتی میں کتنی اہم ہو چکی ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSمتحدہ عرب اماراتبھارتتیلاڈنوکفجیرہ
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading