ڈاؤ جونز میں 1,569 پوائنٹس کا تاریخی اضافہ، 53,356 پر بند
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ڈاؤ جونز 1,569 پوائنٹس بڑھ کر 53,356 پر بند ہوا — اپریل 2025 کے بعد سب سے بڑا ایک روزہ اضافہ۔ ایس اینڈ پی اور نیسڈیک میں بھی بڑی تیزی رہی۔

نیویارک: امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج نے بدھ کے روز تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا۔ ڈاؤ جونز 1,569.40 پوائنٹس یعنی 3.03 فیصد بڑھ کر 53,356.12 پر بند ہوا۔ یہ نو اپریل 2025 کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے، اور 1982 کے بعد وسط مدتی انتخابات کے بعد سب سے بڑا اضافہ بھی ہے۔ سرمایہ کاروں نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا خیر مقدم کیا، جس میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
تیزی صرف ڈاؤ جونز تک محدود نہیں رہی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 119.70 پوائنٹس بڑھ کر 7,688.62 پر بند ہوا، جبکہ ٹیکنالوجی کے حصص پر مشتمل نیسڈیک 364.50 پوائنٹس بڑھ کر 25,736.51 پر پہنچ گیا۔ تینوں بڑے انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جسے تجزیہ کاروں نے انتخابات کے بعد سیاسی صورت حال میں تبدیلی سے جوڑا ہے۔ مارکیٹ کے شرکا کا خیال ہے کہ کانگریس میں تقسیم شدہ اقتدار پالیسی میں اچانک تبدیلیوں کو روکے گا، اور ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تیزی آ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً نو فیصد کمی ہوئی اور وہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کو امید ہے کہ واشنگٹن میں سیاسی تعطل جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرے گا، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے افراط زر میں کمی کی امیدیں بھی بڑھی ہیں، جو صارفین اور کاروبار دونوں کے لیے مثبت خبر ہے۔
امریکی بانڈ مارکیٹ میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ دس سالہ ٹریژری کی شرح سود 4.87 فیصد تک گر گئی، جبکہ یورپی حصص دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں میں دلچسپی بڑھائی، اور ڈالر کی قدر میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد مارکیٹ کا یہ ردعمل غیر معمولی ہے، کیونکہ عام طور پر سیاسی غیر یقینی صورت حال مارکیٹ کے لیے منفی سمجھی جاتی ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں نئے کانگریس کی پالیسیوں، ایران جنگ بندی کی کوششوں اور امریکی مرکزی بینک کے فیصلوں پر رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاؤ جونز کا یہ اضافہ ایک دن کی خبر ہو سکتا ہے، اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم بدھ کا روز وال اسٹریٹ کے لیے 2025 کے بعد کا بہترین دن ثابت ہوا، اور اس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.