PAKISTAN & THE WORLDFRIDAY, NOVEMBER 6, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
UAE

ابوظہبی اور اوپن اے آئی کے درمیان چار معاہدے، مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بڑا قدم

ابوظہبی کی تنظیموں اور اوپن اے آئی کے درمیان چار معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدے حکومت، توانائی، سرمایہ کاری اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق ہیں۔ ابوظہبی کے ولی عہد نے دستخط کی تقریب دیکھی۔

ابوظہبی اور اوپن اے آئی کے درمیان چار معاہدے، مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بڑا قدم
Photo supplied with article.

ابوظہبی: ابوظہبی کی تنظیموں اور اوپن اے آئی کے درمیان چار معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ یہ دستخط دو نومبر کو ہوئے، جب اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین ابوظہبی کے دورے پر تھے۔ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے سیم آلٹمین سے ملاقات کی، اور اس کے بعد معاہدوں پر دستخط کی تقریب دیکھی۔ یہ ملاقات توانائی کی بڑی کانفرنس ایڈیپیک کے موقع پر ہوئی۔ ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق یہ معاہدے حکومت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے متعلق ہیں، اور ان کا مقصد ابوظہبی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔

پہلا معاہدہ توانائی کے شعبے سے متعلق ہے۔ اس معاہدے پر ابوظہبی کی سرکاری توانائی کمپنی ایڈنوک، جی فورٹی ٹو کی ذیلی کمپنی انسیپشن فورٹی ٹو اور اوپن اے آئی نے دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایڈنوک اپنے کاموں میں اوپن اے آئی کی جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرے گی۔ رپورٹس کے مطابق ایڈنوک توانائی کے شعبے کی پہلی کمپنی بن گئی ہے جو اوپن اے آئی کی اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنائے گی۔ اس ٹیکنالوجی میں جی پی ٹی ماڈلز شامل ہیں، جو متحدہ عرب امارات کے اندر موجود کمپیوٹنگ سہولتوں پر چلائے جائیں گے۔ ایڈنوک کا کہنا ہے کہ اس سے اس کے کاموں میں بہتری آئے گی، اور اس کے فیصلے زیادہ بہتر معلومات کی بنیاد پر کیے جا سکیں گے۔

دوسرا معاہدہ حکومت کے شعبے سے متعلق ہے۔ ابوظہبی کی حکومت اور اوپن اے آئی نے مشین سے پڑھی جانے والی حکومت کے نام سے ایک نئی پہل شروع کی ہے۔ اس پہل کو دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی مشین سے پڑھی جانے والی حکومتی پہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی پالیسیوں اور ضوابط کو اس طرح لکھا جائے گا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام انہیں براہ راست پڑھ اور سمجھ سکیں۔ اس سے سرکاری اہلکاروں کو اجازت ناموں اور سرٹیفکیٹس سے متعلق معمول کی جانچ میں مدد ملے گی۔ اس پہل کا پہلا تجربہ ابوظہبی زراعت اور غذائی تحفظ اتھارٹی کے ساتھ خوراک کی درآمدات پر جاری ہے، اور یہ تجربہ پہلے ہی کام کر رہا ہے۔

تیسرا معاہدہ سرمایہ کاری کے شعبے سے متعلق ہے۔ اس معاہدے پر مبادلہ، انسیپشن فورٹی ٹو اور اوپن اے آئی نے دستخط کیے ہیں۔ مبادلہ ابوظہبی کا سرکاری سرمایہ کار ادارہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتوں کو سرمایہ کاری کے تجزیے، مواقع کی نشاندہی اور خطرات کے جائزے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس سے سرمایہ کاری کے فیصلے زیادہ معلومات کی بنیاد پر کیے جا سکیں گے، اور طویل مدتی قدر پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں درست معلومات اور بروقت تجزیہ بہت اہم ہوتا ہے، اور مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں اعداد و شمار کا جائزہ لے کر ایسے رجحانات تلاش کر سکتی ہے جو انسانوں کے لیے دیکھنا مشکل ہو۔

چوتھا معاہدہ ایک پانچ سالہ معاہدہ ہے، جو انسیپشن فورٹی ٹو اور اوپن اے آئی کے درمیان ہوا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد متحدہ عرب امارات میں حکومت، کاروبار اور تعلیم کے شعبوں میں جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔ اس کے تحت بڑی تنظیموں کے لیے کاروباری حل فراہم کیے جائیں گے، جن میں اوپن اے آئی کے ماڈلز اور ماہرین کے ساتھ انسیپشن فورٹی ٹو کی مشاورتی خدمات شامل ہوں گی۔ اس سے سرکاری محکموں، کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کو اپنے کاموں میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین نے کہا ہے کہ ابوظہبی اور متحدہ عرب امارات سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے لیے ایک جرات مندانہ عالمی معیار قائم کر رہے ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک پہنچ سکیں۔ یہ بیان ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کیا گیا۔ ابوظہبی نے پہلے سے ہی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے، اور جی فورٹی ٹو اوپن اے آئی کے ساتھ اسٹارگیٹ متحدہ عرب امارات کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔ ابوظہبی کا مقصد دنیا کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی حکومت بننا بتایا جاتا ہے، اور یہ نئے معاہدے اسی سمت میں ایک قدم ہیں۔

مجموعی طور پر ابوظہبی اور اوپن اے آئی کے درمیان یہ چار معاہدے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکومت، توانائی، سرمایہ کاری اور تعلیم، یہ چاروں شعبے کسی بھی ملک کی معیشت اور معاشرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICSuaeabudhabiopenaiartificialintelligencetechnologyadnoc
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading