PAKISTAN & THE WORLDFRIDAY, NOVEMBER 6, 2026
PAKISTAN & THE WORLD
NEWSUT TOOLS Prayer Timings Gold Rates Currency Exchange Crypto Rates
LATEST NEWS
Health

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے ٹرائلز کی منظوری دے دی

عالمی ادارہ صحت نے کانگو میں جاری ایبولا ٹرائلز میں بنڈیبوگیو قسم کے لیے دو نئی ویکسینز شامل کرنے کی سفارش کر دی۔ یہ پہلی ویکسینز ہیں جو خاص طور پر اس قسم کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کی دو نئی ویکسینز کے ٹرائلز کی منظوری دے دی
Photo supplied with article.

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے ایبولا کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کانگو میں جاری ٹرائلز میں دو نئی ویکسینز شامل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ یہ ویکسینز ایبولا وائرس کی بنڈیبوگیو قسم کے لیے تیار کی گئی ہیں، اور یہ پہلی ویکسینز ہیں جو خاص طور پر اس قسم کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کے گروپوں نے سفارش کی ہے کہ ان دو امیدوار ویکسینز کو کانگو میں جاری ٹرائلز میں شامل کیا جائے، تاکہ ان کی افادیت اور حفاظت کا جائزہ لیا جا سکے۔

پہلی ویکسین کا نام چیڈ آکس ون بی ڈی بی وی ہے، جسے آکسفورڈ یونیورسٹی اور سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے تیار کیا ہے۔ دوسری ویکسین موڈرنا کی ایم آر این اے 1469 ہے۔ دونوں ویکسینز کو بنڈیبوگیو قسم کے خلاف خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ایبولا کی ایک الگ قسم ہے۔ اس سے پہلے موجود ویکسینز بنیادی طور پر ایبولا کی زائر قسم کے لیے تیار کی گئی تھیں، اس لیے بنڈیبوگیو کے خلاف ان کی افادیت محدود تھی۔ نئی ویکسینز سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اس خلا کو پر کریں گی۔

یہاں الفاظ کا درست استعمال ضروری ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان ویکسینز کی منظوری نہیں دی، بلکہ ماہرین نے سفارش کی ہے کہ انہیں جاری ٹرائلز میں شامل کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسینز ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں، اور ان کے نتائج 2027 کے اوائل میں آنے کی توقع ہے۔ تب ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ ویکسینز کتنی مؤثر اور محفوظ ہیں۔ اس عمل میں کئی مراحل باقی ہیں، اور منظوری سے پہلے سخت جانچ ضروری ہے۔

کانگو میں ایبولا کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے مطابق اب تک 10,444 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 5,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار وبا کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ مریضوں کی جلد تشخیص، رابطوں کا پتہ لگانا اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بنڈیبوگیو کے لیے مخصوص ویکسینز کی تیاری ایک بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ اگر ٹرائلز کامیاب رہے تو مستقبل میں اس قسم کے پھیلاؤ کو روکنا آسان ہو جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ وہ کانگو کی حکومت اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا، تاکہ وبا پر قابو پایا جا سکے اور متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔

ENJOYED THIS STORY? SHARE IT
TOPICShealthebolawhovaccinecongo
COMMUNITY VOICES

Join the conversation 0 approved

Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.

NewsUT discussion

Be constructive, stay relevant and keep it respectful.

No approved comments yet

Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.

ADD YOUR PERSPECTIVE

Leave a comment

Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.

Quick guidelines
  • Be respectful
  • Stay on topic
  • No spam or abuse
What makes a good comment?

Add context, ask a thoughtful question, or share a useful point of view connected to the story.

Your name and approved comment will be public. By submitting, you agree to our Terms and acknowledge the Privacy Policy.

NEWSUT ESSENTIALS

Daily tools

Helpful updates, one click away.

Related reading