اسرائیل میں پہلا روبوٹ کی مدد سے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ
اسرائیل کے بیلنسن اسپتال میں پہلی بار روبوٹ کی مدد سے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ کامیابی سے کیا گیا۔ سینہ کھولے بغیر چھوٹے چیروں سے آپریشن ہوا، مریض کی صحت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔

اسرائیل کے کلیلیت بیلنسن اسپتال میں پہلی بار روبوٹ کی مدد سے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام دیا گیا ہے۔ پیٹاہ ٹکوا میں واقع اس اسپتال کے سرجنوں نے ڈا ونچی سرجیکل روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے سینہ مکمل طور پر کھولے اور پسلیاں پھیلائے بغیر عطیہ شدہ پھیپھڑا مریض کے جسم میں لگایا۔ یہ آپریشن اکتوبر میں کیا گیا تھا اور اس کی خبر نومبر کے پہلے ہفتے میں سامنے آئی۔
آپریشن کی قیادت بیلنسن اسپتال کے شعبہ تھوراسک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر یوری پیساخووچ نے کی۔ ان کی ٹیم نے سینے میں کئی چھوٹے چیرے لگا کر روبوٹ کی مدد سے عطیہ شدہ پھیپھڑے کو مریض کی خون کی نالیوں اور ہوا کی نالیوں سے جوڑا۔ روایتی پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ میں سینہ بڑے پیمانے پر کھولنا پڑتا ہے، جس سے مریض کو شدید درد ہوتا ہے اور صحت یابی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
ڈاکٹر پیساخووچ نے کہا کہ روبوٹک پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ اسرائیل میں اس شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ مریض کی صحت توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئی اور اسے درد کی دوا کے طور پر تقریباً صرف پیراسیٹامول کی ضرورت پڑی۔ مریض نے انتہائی نگہداشت اور اسپتال میں بھی توقع سے کم وقت گزارا، جو اس طریقہ کار کی کامیابی کی واضح علامت ہے۔
دنیا بھر میں اب تک صرف تقریباً 20 روبوٹک پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں اور پہلا ایسا آپریشن تین سال قبل اسپین میں ہوا تھا۔ اسرائیل اب ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں یہ جدید تکنیک استعمال کی جا رہی ہے۔ اس کامیابی سے قبل تقریباً ایک ماہ پہلے بیلنسن اسپتال نے روبوٹ کے بغیر بھی ایک کم جارحانہ طریقے سے پھیپھڑوں کا ٹرانسپلانٹ کیا تھا، جس نے روبوٹک آپریشن کی راہ ہموار کی۔
بیلنسن اسپتال اب تک ایک ہزار سے زیادہ پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کر چکا ہے، جس سے اسے اس شعبے میں خاص مہارت حاصل ہے۔ ڈاکٹر پیساخووچ کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کی خواہش ہے کہ پانچ سال کے اندر سینہ کھولے بغیر روبوٹک سرجری پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کا معمول بن جائے۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی صرف ایک مریض پر یہ تجربہ ہوا ہے، اس لیے طویل مدتی نتائج اور مسترد ہونے کی شرح کے بارے میں حتمی رائے کے لیے مزید آپریشنز اور تحقیق کی ضرورت ہوگی۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کو مزید مریضوں پر آزمایا جائے گا اور نتائج کو طبی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ اگر یہ طریقہ کامیاب رہا تو دنیا بھر میں پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.