امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی، دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کر لیا
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ انتخابات 3 نومبر کو ہوئے تھے، جن میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان میں اب تک 228 نشستیں جیت لی ہیں اور مزید 34 میں آگے ہیں، جبکہ ریپبلکنز نے 139 نشستیں جیتی ہیں۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے 54 نشستیں جیت لی ہیں اور ایک میں آگے ہیں، جبکہ ریپبلکنز کی 44 نشستیں ہیں۔ ایوان میں اکثریت کے لیے 218 اور سینیٹ میں 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ کچھ حلقوں میں گنتی اب بھی جاری ہے، اس لیے یہ حتمی مصدقہ نتائج نہیں ہیں۔
ڈیموکریٹس نے ایوان میں کم از کم 25 اور سینیٹ میں کم از کم سات ریپبلکن نشستیں اپنے نام کی ہیں۔ جارجیا میں کیشا لینس باٹمز گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ ڈیموکریٹس کے پاس اب 28 گورنرز ہیں، جبکہ ریپبلکنز کے 20 گورنرز ہیں۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے جن سات ریپبلکن نشستوں پر کامیابی حاصل کی، ان کی تفصیل بھی سامنے آئی ہے۔ آئیووا میں جوش ٹیورک نے ایشلے ہنسن کو، کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے راجر مارشل کو، میئن میں ٹرائے جیکسن نے سوسن کولنز کو، شمالی کیرولائنا میں رائے کوپر نے کھلی نشست پر، اوہائیو میں شیرڈ براؤن نے جون ہسٹڈ کو، جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو اور ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو نے کین پیکسٹن کو شکست دی۔ کنساس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہاں 1932 کے بعد سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب نہیں ہوا تھا۔ انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے پاس سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 اور ایوان میں 219 کے مقابلے میں 214 نشستیں تھیں، اور ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں خالص چار نشستوں کے اضافے کی ضرورت تھی۔ 2026 میں 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب ہوا۔ نئی کانگریس جنوری 2027 کے اوائل میں اپنا کام شروع کرے گی، اور اس وقت تک موجودہ ریپبلکن اکثریت والی کانگریس کام کرتی رہے گی۔
وسط مدتی انتخابات صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان میں ہوتے ہیں اور ان میں صدر خود امیدوار نہیں ہوتا۔ 1946 کے بعد سے ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 18 میں صدر کی جماعت نے ایوان نمائندگان میں نشستیں کھوئی ہیں، اور اوسط نقصان تقریباً 26 ایوانی نشستیں اور تقریباً چار سینیٹ نشستیں رہا ہے۔ 1946 کے بعد صرف دو بار صدر کی جماعت نے وسط مدتی انتخابات میں ایوان کی نشستیں بڑھائی ہیں: 1998 میں بل کلنٹن کے دور میں چار اور 2002 میں جارج ڈبلیو بش کے دور میں آٹھ نشستیں۔ تاریخی طور پر بڑے نقصانات میں 1994 میں کلنٹن کے دور میں 54، 2010 میں اوباما کے دور میں 63 اور 1946 میں ٹرومین کے دور میں 56 نشستوں کا نقصان شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات اکثر صدر کی کارکردگی پر ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اپوزیشن کے ووٹر زیادہ متحرک ہوتے ہیں جبکہ صدر کے حامی اس وقت کم جوش سے ووٹ دیتے ہیں جب صدر خود بیلٹ پر نہیں ہوتا۔ 1857 کے بعد سے صدر کی جماعت نے صرف چھ بار دونوں ایوان ایک ساتھ کھوئے ہیں، اور آخری بار ایسا 2006 میں ہوا تھا۔
2026 کے انتخابات میں کن مسائل نے ووٹروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا، اس بارے میں سروے کے اعداد بھی سامنے آئے ہیں۔ اے پی اور این او آر سی کے 8 سے 12 اکتوبر کے سروے میں تقریباً دس میں سے آٹھ ووٹروں نے معیشت یا زندگی گزارنے کی لاگت کو اپنے اہم مسائل میں شامل کیا، جبکہ تقریباً دو تہائی نے صحت کی سہولتوں اور ایران کی جنگ کو اہم قرار دیا۔ امیگریشن اور جرائم کم ترجیح میں رہے۔ اسی سروے میں تقریباً دس میں سے آٹھ ووٹروں نے زندگی گزارنے کی لاگت سے نمٹنے میں ٹرمپ کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، اور تقریباً تین چوتھائی نے معیشت کی دیکھ بھال پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ اے پی ووٹر پول میں، جس میں 50 ریاستوں کے تقریباً 80 ہزار ووٹروں نے حصہ لیا، تقریباً دس میں سے چار نے معیشت کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا اور تقریباً تین نے جمہوریت کی حالت کو، جبکہ صرف دس میں سے ایک نے امیگریشن یا صحت کو سب سے بڑا مسئلہ کہا۔ تقریباً نصف ووٹروں نے حکومتی بدعنوانی اور زندگی گزارنے کی لاگت کو اپنے ووٹ کے لیے فیصلہ کن قرار دیا۔ ووٹروں کا خیال تھا کہ ڈیموکریٹس معیشت اور حکومتی بدعنوانی سے بہتر نمٹ سکتے ہیں، جبکہ امیگریشن پر ریپبلکنز کو معمولی برتری حاصل تھی۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایران کی جنگ پر ووٹروں کی ناراضی تھی، اور نوجوانوں اور لاطینی ووٹروں نے ریپبلکنز سے دوری اختیار کی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.