ترکی پارلیمنٹ نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اتحاد
ترکی کی پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی، جس کے بعد یہ سہ فریقی اتحاد مکمل طور پر نافذ العمل ہو گیا۔

ترکی کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جس کے بعد یہ تاریخی سہ فریقی دفاعی اتحاد مکمل طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کو خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی پارلیمنٹ میں اس معاہدے پر ووٹنگ ہوئی، جس میں 279 ارکان نے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 119 ارکان نے مخالفت کی۔ پارلیمنٹ کے 592 ارکان میں سے 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ الجزیرہ اور ڈان کی رپورٹوں میں بھی یہی اعداد و شمار درج ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معاہدے کو واضح اکثریت سے منظور کیا گیا۔
یہ معاہدہ سات اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف موجود تھے۔ معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، یعنی تینوں ممالک ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہوں گے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں، دفاعی ٹیکنالوجی کے تبادلے، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور لاجسٹک مدد کے شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ یہ تعاون صرف کاغذی نہیں ہوگا بلکہ اس کے تحت عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ کوئی بھی دستخط کنندہ ملک معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد پہلے دس برسوں کے دوران اس سے دستبردار نہیں ہو سکے گا۔ دس سال کی مدت گزرنے کے بعد یہ معاہدہ غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا، جس سے اس اتحاد کی طویل المدتی نوعیت واضح ہوتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی توثیق کا عمل پہلے ہی مکمل کر چکے تھے، اور ترکی آخری ملک تھا جس کی توثیق باقی تھی۔ اب ترکی کی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد تینوں ممالک کی جانب سے توثیق کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
اس توثیق کے بعد انقرہ کے لیے ریاض کو فوجی مدد فراہم کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب کو سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے اہلکاروں کی تعیناتی کے لیے ایک علیحدہ مینڈیٹ بھی متوقع ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.