سعودی عرب نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کی سہولت میں توسیع کر دی، امریکہ کی دس ارب ڈالر سہولت غیر یقینی
سعودی عرب نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کی مالی سہولت میں توسیع کر دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی کہ امریکہ سے مجوزہ دس ارب ڈالر کی سہولت ضروری نہیں۔

اسلام آباد: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کی مالی سہولت میں توسیع کر دی ہے، جس سے فوری ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو گیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔ یہ سہولت اپریل میں دی گئی تھی اور تین ماہ کی مدت کے بعد 31 اکتوبر کو اس کی مدت ختم ہو رہی تھی۔ اس سے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے پیدا ہونے والا خلا پورا کرنے میں مدد ملی تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سہولت میں "معقول مدت" کے لیے توسیع کی گئی ہے، تاہم نئی مدت نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب سے مزید مالی مدد کی ضرورت نہیں اور امریکہ سے مجوزہ دس ارب ڈالر کی لیکویڈیٹی سہولت کے بغیر بھی ملک اپنی بیرونی مالی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ یہ سہولت جولائی میں طلب کی گئی تھی۔
ستمبر کے پہلے ہفتے میں یورو بانڈ کے ذریعے تین ارب ڈالر حاصل کیے گئے تھے، جس پر چھ ارب ڈالر کے آرڈر موصول ہوئے تھے۔ دسمبر میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی منظوری متوقع ہے۔ سعودی عرب کی پانچ ارب ڈالر کی الگ سہولت کی مدت پہلے ہی 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
سعودی عرب کی پاکستان کو مالی مدد کی تاریخ پرانی ہے۔ نومبر 2021 میں سعودی فنڈ برائے ترقی کے ذریعے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کرائے گئے تھے، اور اس رقم کی مدت 2022، 2023 اور 2024 میں بڑھائی گئی۔ دسمبر 2022 میں اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ سعودی فنڈ نے تین ارب ڈالر کی اس رقم کی مدت میں توسیع کر دی ہے اور اسے سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو مسلسل تعاون قرار دیا تھا۔ جولائی 2023 میں سعودی عرب نے ایک اور دو ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں جمع کرائے تھے، اور یہ رقم آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے تین ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظام پر غور سے ایک روز قبل آئی تھی۔ مجموعی طور پر سعودی عرب نے پاکستان کو آٹھ ارب ڈالر کی قلیل مدتی مالی سہولت دی ہے، جس میں سے پانچ ارب ڈالر کی سہولت کی مدت دسمبر 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا تھا کہ اس توسیع سے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضرورت کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا اندازہ تقریباً 30 ارب ڈالر تھا۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں یہ سہولت اہم ہے۔ جولائی 2024 میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 39 ماہ کے لیے سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پر اتفاق ہوا تھا، جسے ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف بورڈ نے منظور کیا۔ اس کے ساتھ 28 ماہ کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت بھی چل رہی ہے۔ مئی 2025 میں بورڈ نے تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط منظور کی۔ دسمبر 2025 میں دوسرے جائزے کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور ریزیلینس سہولت کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر جاری ہوئے۔ مئی 2026 میں تیسرے جائزے کے بعد تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ڈالر اور 22 کروڑ ڈالر جاری کیے گئے، جس سے دونوں انتظامات کے تحت کل جاری رقم تقریباً چار ارب 80 کروڑ ڈالر ہو گئی۔ اکتوبر 2026 میں چوتھے جائزے پر عملے کی سطح پر اتفاق ہوا، جس کے تحت بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً ایک ارب ڈالر اور 21 کروڑ ڈالر ملیں گے اور کل رقم تقریباً پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر ہو جائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اب تک 25 انتظامات لیے ہیں اور وہ ارجنٹائن اور یوکرین کے بعد فنڈ کا تیسرا بڑا قرض دار ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.