وزیر اعظم نے سبسڈی والا ایندھن نہ دینے والے پٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے سبسڈی والا ایندھن رجسٹرڈ مستحقین کو نہ دینے والے پٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔ اب تک ایک کروڑ 55 لاکھ سے زائد شہری اسکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سبسڈی والا ایندھن رجسٹرڈ مستحقین کو نہ دینے والے پٹرول پمپوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعظم نے جمعرات پانچ نومبر کو اسلام آباد میں وزیر اعظم فیول ریلیف پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بلائے گئے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کہا کہ جو پٹرول پمپ رجسٹرڈ مستحقین کو سبسڈی والا ایندھن دینے سے انکار کریں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ 55 لاکھ 19 ہزار 282 شہری رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار موٹر سائیکل مالکان اور چار لاکھ 49 ہزار ایسے افراد شامل ہیں جن کے پاس 800 سی سی تک انجن والی گاڑیاں ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک چھ کروڑ 31 لاکھ سے زائد سبسڈی ٹوکن جاری کیے گئے جن میں سے پانچ کروڑ 94 لاکھ سے زائد ٹوکن استعمال ہو چکے ہیں، یعنی ٹوکن استعمال کی شرح 94 فیصد سے زیادہ رہی۔ چار نومبر تک اس اسکیم کے تحت 28 ارب 60 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔
وزیر اعظم نے اسکیم کی پیش رفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی کی ادائیگی کے طریقہ کار کو آسان بنانے سے زیادہ مستحق شہری اس سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔ انہوں نے وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی جنہوں نے اسکیم کی نگرانی کے لیے ایک موثر ڈیش بورڈ تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہر رجسٹرڈ شخص کو وعدہ کی گئی سہولت ملنی چاہیے اور اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ ریلیف پروگرام 13 ستمبر کو شروع کیا گیا تھا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ اسکیم کے تحت کم اور درمیانی آمدنی والے گھرانوں کو فی لیٹر 100 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک انجن والی گاڑیوں کے مالکان ماہانہ 30 لیٹر پر یہ سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔
صارفین اور پٹرول پمپ مالکان کی شکایات کے ازالے کے لیے الگ الگ کال سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ مستحقین کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اجلاس میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ سمیت کئی وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.