خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید
محمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ میں شہید ہو گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع محمند میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ منگل 3 نومبر کو پیش آیا۔ تیسرا اہلکار زخمی ہوا۔ شہید اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار کا نام صابر ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب ملک بھر میں 97 زیادہ خطرے والے اضلاع میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنے کے لیے 2 نومبر سے خصوصی پولیو مہم شروع کی گئی تھی، جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس سے ایک روز قبل پیر کو ٹانک ضلع میں چار پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
یکم نومبر کو خیبر ضلع میں 13 ماہ کی بچی میں رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آیا تھا۔ اس سال کے آٹھ کیسوں میں سے چھ خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔
پولیو کیسوں کی طویل مدتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دوبارہ اضافہ تشویش کا باعث بنا۔ پاکستان میں 2024 میں پولیو کے 74 کیس رپورٹ ہوئے تھے، جو 2023 کے صرف چھ کیسوں سے دس گنا سے زیادہ تھے۔ 2024 کے کیسوں میں 27 بلوچستان، 23 سندھ، 22 خیبر پختونخوا اور ایک ایک پنجاب اور اسلام آباد سے تھے۔ 2025 میں کیسوں کی حتمی تعداد 31 رہی، جن میں 19 خیبر پختونخوا، نو سندھ، ایک پنجاب اور ایک گلگت بلتستان سے تھے۔ 1994 میں پولیو کے خاتمے کی مہم شروع ہونے کے بعد سے کیسوں میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے، جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 20 ہزار سالانہ کیسوں سے کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئے۔ عالمی سطح پر 1980 کی دہائی کے آخر میں ہر سال تین لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بچے پولیو سے مفلوج ہوتے تھے، اور یہ تعداد 99 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن ویکسین سے اسے روکا جا سکتا ہے۔
پولیو ٹیموں پر حملوں کی تاریخ بھی لمبی اور المناک ہے۔ حکام کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک 200 سے زیادہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ایسے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ 2012 سے رکھے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیو مہموں پر حملوں میں 96 افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے، جن میں 61 پولیس اہلکار اور 27 صحت کے کارکن شامل تھے، اور ان حملوں کی ذمہ داری زیادہ تر تحریک طالبان اور اس سے منسلک گروہوں پر عائد کی جاتی ہے۔ 2012 سے 2014 کے دوران تقریباً 60 افراد مارے گئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت کے بلیٹن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 1998 سے 2024 کے دوران پولیو کی حفاظتی سرگرمیوں سے منسلک 362 پرتشدد واقعات میں 359 افراد ہلاک، 358 زخمی اور 179 اغوا ہوئے، اور ان ہلاکتوں و زخمیوں میں سے 69 فیصد پاکستان میں ہوئے۔ واقعات 2014 میں سب سے زیادہ تھے، جب 51 واقعات میں 64 افراد ہلاک ہوئے، اور 2024 میں 42 واقعات میں 40 افراد ہلاک اور 63 زخمی ہوئے۔ 2025 میں بھی ایسے واقعات ہوئے: 27 مئی کو نوشکی میں ایک پولیس اہلکار، 23 اپریل کو مستونگ میں دو پولیس اہلکار، 18 مئی کو باجوڑ میں دو پولیس اہلکار شہید ہوئے، اور مئی میں ہنگو میں ایک پولیس اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں تقریباً 20 پولیس اہلکار اور پولیو ورکرز مارے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خیبر پختونخوا اور اس کے بعد بلوچستان سے تھے۔
خیبر پختونخوا، خاص طور پر جنوبی خیبر پختونخوا، پولیو کے لیے سب سے زیادہ خطرے والا علاقہ ہے۔ جنوبی خیبر پختونخوا میں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن شامل ہیں، جن کا رقبہ 28,229 مربع کلومیٹر ہے اور یہ افغانستان سے ملحق ہے۔ وہاں صحت کی سہولتوں کی کمی، معمول کی حفاظتی ویکسین کی بہت کم شرح، مہموں پر حملے، کمیونٹی بائیکاٹ، غربت، کم شرح خواندگی اور محدود صحت کے بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے وائرس مسلسل گردش کر رہا ہے۔ 2025 میں خیبر پختونخوا کے 19 کیسوں میں چار چار شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ٹانک، تین بنوں، دو تورغر اور ایک ایک ڈیرہ اسماعیل خان اور لوئر کوہستان سے تھے۔ پاکستان اور افغانستان ایک ہی وبائی بلاک بناتے ہیں، جن کے درمیان 2,600 کلومیٹر سے زیادہ سرحد ہے اور بڑے پیمانے پر سرحد پار آمد و رفت ہوتی ہے۔ ضم شدہ اضلاع میں ایک مہم میں نو لاکھ 35 ہزار سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر بچے ویکسین سے محروم رہ گئے تھے، جس کی وجہ سیکیورٹی چیلنجز اور آبادی کی نقل مکانی بتائی گئی تھی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.