خلیفہ یونیورسٹی اور سانوفی دمہ اور سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق کے لیے شراکت دار
خلیفہ یونیورسٹی اور سانوفی نے متحدہ عرب امارات میں دمہ اور سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق آگے بڑھانے کے لیے اسٹریٹجک تحقیقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

خلیفہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور عالمی دوا ساز کمپنی سانوفی نے دمہ اور دائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری یعنی سی او پی ڈی پر جینومک تحقیق آگے بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک تحقیقی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا اعلان چار نومبر کو کیا گیا اور اسے متحدہ عرب امارات میں سانس کی بیماریوں کے علاج میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تعاون کے تحت جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن اسٹڈی کی جائے گی، جس میں جینیاتی عوامل اور دمہ اور سی او پی ڈی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جائے گا۔ خلیفہ یونیورسٹی اپنی جینومک تحقیق کی مہارت فراہم کرے گی، جبکہ سانوفی اپنی بائیو فارماسیوٹیکل تحقیق اور ترقی کی صلاحیتوں سے اس منصوبے کو سہارا دے گی۔ دونوں اداروں کا مقصد ان بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنا اور مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر علاج تلاش کرنا ہے۔
اس مطالعے کو ادارہ جاتی جائزہ بورڈ کی منظوری اور محکمہ صحت ابوظہبی کی ریگولیٹری اجازت مل چکی ہے۔ تحقیقی ٹیم اماراتی جینوم پروگرام اور ملافی کے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرے گی۔ ملافی ابوظہبی کا صحت کی معلومات کے تبادلے کا پلیٹ فارم ہے۔ تمام ڈیٹا محکمہ صحت کے محفوظ ٹرسٹڈ ریسرچ انوائرمنٹ میں رکھا جائے گا اور پرائیویسی اور سیکیورٹی کے تمام تقاضوں کی مکمل پابندی کی جائے گی۔
دمہ اور سی او پی ڈی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی یہ بیماریاں ایک بڑا صحت کا چیلنج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جینیاتی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کچھ افراد میں یہ بیماریاں کیوں زیادہ شدت سے ظاہر ہوتی ہیں اور مختلف مریضوں کو علاج پر مختلف ردعمل کیوں ملتا ہے۔ اس سے ذاتی نوعیت کی دوا کی جانب پیش رفت ممکن ہوگی۔
خلیفہ یونیورسٹی جینومک سائنس میں اہم کام کر چکی ہے اور سانوفی سانس کی بیماریوں کے علاج میں مہارت رکھتی ہے۔ دونوں اداروں کا یہ اشتراک تعلیمی اور صنعتی شعبے کے تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جینومک تحقیق سے نہ صرف نئی دوائیں تیار کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بیماری کی جلد تشخیص اور روک تھام کے طریقے بھی سامنے آئیں گے۔ اماراتی جینوم پروگرام کے ڈیٹا کی موجودگی اس تحقیق کو خاص اہمیت دیتی ہے، کیونکہ اس سے مقامی آبادی کے جینیاتی خاکے کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
آئندہ مرحلے میں تحقیقی ٹیم ڈیٹا کے تجزیے پر کام کرے گی اور نتائج سائنسی جرائد میں شائع کیے جائیں گے۔ اگر یہ تحقیق کامیاب رہی تو متحدہ عرب امارات اور خطے کے مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.