ایپل کی سری اب گوگل جیمنائی پر چلے گی، سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کا معاہدہ
ایپل اور گوگل نے کئی سالہ تعاون کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اگلی نسل کی سری گوگل کے جیمنائی ماڈل پر چلے گی۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل گوگل کو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔

کیوپرٹینو: ایپل اور گوگل نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کئی سالہ تعاون کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایپل کے اگلی نسل کے فاؤنڈیشن ماڈل گوگل کے جیمنائی ماڈلز اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گے۔ اس تعاون کا سب سے اہم حصہ سری ہے، ایپل کا وائس اسسٹنٹ، جس کا طویل عرصے سے وعدہ کیا گیا نیا ورژن اب گوگل کی ٹیکنالوجی سے چلے گا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل اس کے لیے گوگل کو سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔ یہ ماڈل 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہوگا، جو اے آئی سافٹ ویئر کی پیچیدگی کا پیمانہ ہے۔
یہ فیصلہ ایپل کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کمپنی سری کی از سر نو تعمیر میں کافی پیچھے رہ گئی تھی۔ ایپل نے اپنی سری کی بہتری کے لیے کئی ماڈلز کو آزمایا تھا، جن میں اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی اور اینتھروپک کا کلاؤڈ بھی شامل تھے، لیکن بالآخر کمپنی نے گوگل کے جیمنائی کو منتخب کیا۔ بلومبرگ کے مطابق دونوں کمپنیوں کے درمیان معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ نیا سری اگلے موسم بہار میں آئی او ایس 26.4 کے ساتھ آنے کی توقع ہے۔
گوگل کا ماڈل سری کے دو اہم حصوں کو سنبھالے گا: سمری بنانے اور منصوبہ بندی کرنے والے حصے، جو وائس اسسٹنٹ کو معلومات کو یکجا کرنے اور پیچیدہ کاموں کو انجام دینے کا فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس منصوبے کو اندرونی طور پر گلین ووڈ کا نام دیا گیا ہے، جبکہ نئے وائس اسسٹنٹ کا کوڈ نام لن ووڈ ہے۔ اس کوشش کی قیادت ویژن پرو ہیڈسیٹ بنانے والے مائیک راک ویل اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کے سربراہ کریگ فیڈریگی کر رہے ہیں۔
رازداری کے حوالے سے ایپل نے واضح کیا ہے کہ یہ ماڈل ایپل کے اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹ سرورز پر چلے گا، تاکہ صارفین کا ڈیٹا گوگل کے نظام سے الگ رہے۔ ایپل گوگل کو عوامی طور پر شریک برانڈ کے طور پر پیش نہیں کرے گا، بلکہ اسے پردے کے پیچھے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے کے طور پر رکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ سری میں جیمنائی کو براہ راست چیٹ بوٹ کے طور پر شامل کرنے کی پرانی بات چیت سے الگ ہے، جو کبھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
پیمانے کے لحاظ سے یہ ایک بہت بڑی چھلانگ ہے۔ گوگل کا 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز والا ماڈل ایپل کے موجودہ کلاؤڈ ماڈل سے کہیں بڑا ہے، جس میں تقریباً 150 ارب پیرامیٹرز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایپل اسے عارضی حل کے طور پر دیکھ رہا ہے، جب تک کہ اس کے اپنے ماڈل اتنے طاقتور نہ ہو جائیں۔ ایپل اپنا تقریباً ایک ٹریلین پیرامیٹرز والا کلاؤڈ ماڈل تیار کر رہا ہے، جو 2026 کے آخر تک تیار ہونے کی توقع ہے۔
سری کی تاریخ میں یہ ایک اہم موڑ ہے۔ سری 2011 میں آئی فون فور ایس کے ساتھ متعارف ہوئی تھی اور اس وقت وہ اپنی نوعیت کی پہلی مقبول وائس اسسٹنٹ تھی، لیکن بعد میں وہ چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کلاؤڈ جیسے جدید اے آئی سسٹمز سے پیچھے رہ گئی۔ ایپل نے 2024 میں ایپل انٹیلیجنس کا اعلان کیا تھا، لیکن سری کی بڑی بہتری میں تاخیر ہوتی رہی، جس پر کمپنی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اب گوگل کی مدد سے ایپل اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس معاہدے کا اثر پوری ٹیکنالوجی صنعت پر پڑے گا۔ چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد 90 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے 2026 میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر 700 ارب ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایپل جیسی بڑی کمپنی کا اپنے سب سے اہم پروڈکٹ کے لیے حریف کی ٹیکنالوجی استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی کی دوڑ میں اب کوئی کمپنی اکیلی سب کچھ نہیں بنا سکتی۔ البتہ بلومبرگ نے یہ بھی لکھا ہے کہ منصوبے ابھی حتمی نہیں ہیں اور ان میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے صارفین کو نئی سری کی اصل کارکردگی کا فیصلہ اس کے آنے کے بعد ہی کرنا چاہیے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.