متحدہ عرب امارات میں فضائی پابندیاں ختم، تمام پروازیں معمول پر واپس
متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایران جنگ کے آغاز سے لگائی گئی تمام فضائی پابندیاں ختم کر دیں۔ ملک کی فضائی حدود میں تمام فضائی کارروائیاں معمول کی حالت میں واپس آ گئی ہیں۔

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود میں لگائی گئی تمام عارضی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ ملک کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں تمام فضائی کارروائیاں معمول کی حالت میں واپس آ گئی ہیں۔ یہ اعلان الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پانچ نومبر کو سامنے آیا، اور اسے خطے میں سفری شعبے کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آپریشنل اور سکیورٹی حالات کا جامع جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھے گی۔
یہ پابندیاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے لگائی گئی تھیں۔ اس جنگ کے شروع ہونے کے بعد خطے میں فضائی سفر شدید متاثر ہوا تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم آٹھ ممالک نے اپنی فضائی حدود مکمل یا جزوی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جن میں متحدہ عرب امارات، عراق، اردن، قطر، بحرین اور کویت شامل تھے۔ اس کشیدگی کے باعث یورپ اور ایشیا کے درمیان طویل فاصلے کی پروازیں چلانے والی ایئرلائنز کے لیے دستیاب راستے محدود ہو گئے تھے۔ ہوا بازی کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی سیریم کے مطابق تنازع کے ابتدائی دنوں میں خطے میں آنے جانے والی گیارہ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی تھیں۔
متحدہ عرب امارات میں پابندیوں کا اثر خاص طور پر نمایاں تھا، کیونکہ دبئی بین الاقوامی مسافروں کے لیے دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے، جب کہ ابوظہبی بھی خطے کا ایک بڑا ہوا بازی مرکز ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق دبئی اور ابوظہبی فروری کے آخر سے پابندیوں کے تحت کام کر رہے تھے۔ اس دوران متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز ایمریٹس اور فلائی دبئی نے عارضی طور پر اپنی تمام کارروائیاں روک دی تھیں، جب کہ اتحاد نے ابوظہبی سے اپنی تمام روانگیاں معطل کر دی تھیں۔ ان اقدامات کے باعث ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے تھے، اور بہت سے لوگوں کو اپنی پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فضائی نیوی گیشن معمول پر واپس آ گئی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صورت حال کے مستحکم ہونے اور عارضی احتیاطی تدابیر ختم کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق فیصلہ آپریشنل اور سکیورٹی حالات کے جامع جائزے اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے کے بعد کیا گیا۔ اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فضائی نیوی گیشن کی حفاظت کی بلند ترین سطح کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اور بروقت نگرانی جاری رہے گی۔ اتھارٹی نے مسافروں اور ایئرلائنز کے تعاون پر شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ اس کی تکنیکی اور آپریشنل ٹیمیں کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اتھارٹی نے عوام سے کہا ہے کہ وہ معلومات سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔
اس اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات سے آنے جانے والی پروازوں کا شیڈول بتدریج معمول پر آ جائے گا۔ ایئرلائنز عام طور پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد اپنے نیٹ ورک کو مرحلہ وار بحال کرتی ہیں، کیونکہ انہیں طیاروں، عملے اور ہوائی اڈوں پر انتظامات کو دوبارہ ترتیب دینا ہوتا ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفر سے پہلے اپنی ایئرلائن سے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورت حال ضرور معلوم کریں، کیونکہ کچھ راستوں پر بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ پروازیں اب بھی اپنے معمول کے راستوں سے مختلف راستے اختیار کریں، جب تک کہ تمام متعلقہ حکام کی طرف سے مکمل اطمینان حاصل نہ ہو جائے۔
مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات میں فضائی پابندیوں کا خاتمہ ایک ایسا قدم ہے جو معمول کی زندگی اور معمول کے سفر کی طرف واپسی کی علامت ہے۔ فروری کے آخر سے جاری پابندیوں کے بعد اب فضائی حدود میں تمام کارروائیاں معمول کی حالت میں واپس آ گئی ہیں۔ ایئرلائنز، مسافر اور سیاحتی شعبہ اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ پروازوں کا شیڈول کس رفتار سے مکمل طور پر بحال ہوتا ہے، اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی فضائی سفر کی صورت حال کس طرح بہتر ہوتی ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.