سعودی معیشت تیسری سہ ماہی میں 3.8 فیصد سکڑ گئی، تیل کی سرگرمیوں میں 20.4 فیصد کمی
سعودی عرب کی معیشت 2026 کی تیسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد سکڑ گئی۔ تیل کی سرگرمیوں میں 20.4 فیصد کمی ہوئی جبکہ غیر تیل سرگرمیوں میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔

ریاض: سعودی عرب کی معیشت 2026 کی تیسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد سکڑ گئی۔ ملک کے شماریاتی ادارے جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس نے یکم نومبر کو جاری کیے گئے ابتدائی تخمینوں میں بتایا کہ مجموعی ملکی پیداوار میں یہ کمی بنیادی طور پر تیل کی سرگرمیوں میں شدید کمی کی وجہ سے ہوئی۔ تیل کی سرگرمیوں میں 20.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ غیر تیل سرگرمیوں میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ سرکاری سرگرمیوں میں بھی 2.7 فیصد کمی آئی۔ یہ اعداد و شمار ستمبر کے آخر تک کی مدت کا احاطہ کرتے ہیں۔
یہ مسلسل دوسری سہ ماہی ہے جس میں سعودی معیشت سالانہ بنیاد پر سکڑی ہے۔ اس سے پہلے دوسری سہ ماہی میں معیشت میں 4.7 فیصد کمی ہوئی تھی، جب تیل کی سرگرمیوں میں 24.8 فیصد کمی آئی تھی۔ اس طرح 2023 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ معیشت نے مسلسل دو سہ ماہیوں میں سالانہ بنیاد پر سکڑاؤ دیکھا ہے۔ تاہم تیسری سہ ماہی میں سکڑاؤ کی رفتار دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں کچھ کم رہی، جسے ماہرین ایک محدود بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار کی تفصیل بتاتی ہے کہ تیل کا شعبہ مجموعی معیشت پر سب سے زیادہ بوجھ بنا رہا۔ جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس کے مطابق تیل کی سرگرمیوں نے حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو میں تقریباً 4.7 فیصدی پوائنٹس کی منفی شراکت کی۔ اس کے مقابلے میں غیر تیل سرگرمیوں نے تقریباً 1.1 فیصدی پوائنٹس کی مثبت شراکت کی، لیکن یہ شراکت تیل کے شعبے میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعی پیداوار میں کمی آئی، حالانکہ معیشت کے کئی غیر تیل حصے آگے بڑھ رہے تھے۔
غیر تیل شعبے کی کارکردگی اس رپورٹ کا سب سے نمایاں مثبت پہلو رہی۔ غیر تیل سرگرمیوں میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جو پچھلی سہ ماہی میں 0.8 فیصد تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر تیل معیشت کی رفتار میں تیزی آئی ہے۔ سعودی حکام طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ معیشت کو تیل پر انحصار سے کم کرنا اور غیر تیل شعبوں کو مضبوط کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ یہی مقصد وژن 2030 کا مرکزی حصہ ہے، جس کے تحت سیاحت، تفریح، صنعت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
بجٹ کے حوالے سے بھی اہم اعداد سامنے آئے ہیں۔ سعودی حکومت نے 2026 کے لیے اپنے متوقع بجٹ خسارے کو مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً 4.9 فیصد تک بڑھا دیا ہے، جو تقریباً 245 ارب ریال بنتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پورے سال کے دوران معیشت میں تقریباً 3.6 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ یہ سطح وبا کے سال 2020 کے دوران دیکھی گئی کمی کے قریب بتائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اکتوبر میں جاری کیے گئے اپنے عالمی معاشی جائزے میں کہا تھا کہ سعودی معیشت 2026 میں 3.3 فیصد سکڑ سکتی ہے، جبکہ 2027 میں اس میں 7.9 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد کو ابتدائی تخمینے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس نے واضح کیا ہے کہ فلیش تخمینے سہ ماہی ختم ہونے کے فوراً بعد تیار کیے جاتے ہیں، جب تمام بنیادی اعداد ابھی مکمل نہیں ہوتے۔ اس لیے حتمی اعداد میں کچھ تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ادارہ آنے والے ہفتوں میں تیسری سہ ماہی کے مکمل قومی کھاتے جاری کرے گا، جن میں مختلف شعبوں کی تفصیلی کارکردگی سامنے آئے گی۔ اس وقت تک یہ ابتدائی اعداد معیشت کی موجودہ سمت کا سب سے تازہ سرکاری اشارہ ہیں۔
آنے والے مہینوں میں سب کی نظریں تیل کی پیداوار، عالمی قیمتوں اور غیر تیل شعبے کی رفتار پر رہیں گی۔ اگر غیر تیل شعبے میں اضافہ جاری رہا اور تیل کی سرگرمیوں میں کمی رک گئی تو معیشت کی بحالی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر تیل کی صنعت میں خلل جاری رہا تو دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ تنوع کی پالیسی طویل مدتی ہے، اور اس کا مقصد معیشت کو کسی ایک شعبے کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ بنانا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے اعداد اسی چیلنج اور اسی کوشش دونوں کو ظاہر کرتے ہیں۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.