قطر امریکی ایل این جی کا سب سے بڑا خریدار بننے جا رہا ہے، چینئیر اور وڈسائیڈ سے طویل مدتی معاہدے
قطر انرجی نے امریکی کمپنیوں چینئیر اور وڈسائیڈ سے سالانہ ستر لاکھ ٹن ایل این جی خریدنے کے طویل مدتی معاہدے کر لیے ہیں۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کی بندش اور برآمدی صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کے بعد کیا گیا۔

دوحہ: قطر، جو دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اب امریکہ سے ایل این جی کا سب سے بڑا خریدار بننے جا رہا ہے۔ قطر انرجی نے امریکی کمپنیوں چینئیر اور وڈسائیڈ انرجی کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت وہ ہر سال ستر لاکھ ٹن تک امریکی ایل این جی خریدے گا۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل میں جاری رکاوٹ اور قطر کی برآمدی صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کے بعد کیا گیا ہے۔
قطر انرجی نے چینئیر کے ساتھ دو معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت وہ چینئیر کی سابائن پاس اور کارپس کرسٹی تنصیبات سے سالانہ چالیس لاکھ ٹن تک ایل این جی خریدے گا۔ ان معاہدوں کے تحت ترسیل دو ہزار اکتیس میں شروع ہونے کی توقع ہے اور یہ دو ہزار چوون تک جاری رہے گی۔ اس کے علاوہ قطر انرجی نے وڈسائیڈ انرجی کے لوزیانا ایل این جی منصوبے سے سالانہ تیس لاکھ ٹن ایل این جی خریدنے کا بیس سالہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ترسیل دو ہزار تیس میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت زیر تعمیر ہے۔
قطر انرجی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو سعد شریدہ الکعبی، جو قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور بھی ہیں، نے کہا ہے کہ یہ اضافی مقدار قطر انرجی کو امریکہ سے ایل این جی کا سب سے بڑا خریدار بناتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کمپنی ایل این جی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ قطر انرجی رواں سال کے اختتام سے قبل امریکی اور دیگر پروڈیوسرز کے ساتھ مزید طویل مدتی معاہدے کرنے کی توقع رکھتی ہے۔
یہ معاہدے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب قطر کی ایل این جی صنعت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ مارچ میں ایرانی میزائل حملوں سے قطر کے راس لفان مرکز کی دو یونٹیں، جنہیں ٹرین فور اور ٹرین سکس کہا جاتا ہے، متاثر ہوئی تھیں۔ ان حملوں سے قطر کی برآمدی صلاحیت میں تقریباً سترہ فیصد کمی آئی تھی، اور قطر انرجی کے مطابق اس سے سالانہ تقریباً بیس ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان ہوا تھا۔ قطر انرجی کے سربراہ نے بتایا تھا کہ ان یونٹوں کی مرمت میں تقریباً تین سال لگ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے قطر کی برآمدات کو مزید متاثر کیا ہے، کیونکہ قطر کی زیادہ تر ایل این جی اسی آبی گزرگاہ سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس بحران کے باعث قطر انرجی کو اپنے کئی طویل مدتی معاہدوں پر فورس میجر کا اعلان کرنا پڑا، جس کے تحت وہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے اپنی معاہداتی ذمہ داریاں عارضی طور پر معطل کر سکتی ہے۔ قطر انرجی نے پہلی بار چار مارچ کو فورس میجر کا اعلان کیا تھا، اور بعد میں اس میں توسیع کرتے ہوئے اسے دسمبر دو ہزار چھبیس کے اختتام تک بڑھا دیا گیا۔
قطر کے لیے ایک اور تشویش حالیہ دنوں میں اس کے ایل این جی جہاز پر حملہ بھی رہا ہے۔ قطر نے نکیلات کی ملکیت والے ایل این جی جہاز المیدہ پر خلیج عرب میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ سمندری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ وزارت نے کہا کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں کے تحفظ اور اپنے جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس پس منظر میں امریکی معاہدوں کو قطر کی توانائی سلامتی کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ چینئیر اور وڈسائیڈ سے خریدی جانے والی مقدار دو ہزار تیس اور دو ہزار اکتیس سے دستیاب ہوگی، اس لیے یہ موجودہ برآمدی نقصان کو فوری طور پر پورا نہیں کر سکتی، لیکن یہ مستقبل میں سپلائی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ قطر انرجی کا کہنا ہے کہ وہ عالمی منڈیوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور صارفین کو قابل اعتماد سپلائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.