قطر اور یونان کا سالانہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان
قطر اور یونان نے دوحہ میں اپنی پہلی پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر سالانہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

قطر اور یونان نے سالانہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان جمعرات پانچ نومبر کو دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر مشترکہ بیان میں کیا گیا۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ڈائیلاگ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔
قطری وفد کی مشترکہ صدارت پالیسی پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد بن فہد الخاطر اور یورپی امور کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر فہد بن محمد کفود نے کی۔ یونانی وفد کی سربراہی یونانی وزارت خارجہ میں عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر یوانیس فوئیوس جیورگاکاکس نے کی۔ دونوں وفود نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز اس مثبت رفتار پر مبنی ہے جو اپریل دو ہزار چھبیس میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ایتھنز کے دورے سے پیدا ہوئی تھی۔ دونوں فریقوں نے اس دورے کو دونوں دوست ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی قرار دیا اور ایک ایسی مستقبل کی شراکت داری قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی جو دونوں اقوام کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنے۔
قطر اور یونان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ یونان یورپ میں قطر کے اہم شراکت داروں میں سے ایک ہے جبکہ قطر خلیج میں یونان کے لیے ایک اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سالانہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ سے دونوں ممالک کو باقاعدہ بنیادوں پر اپنے تعلقات کا جائزہ لینے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح کے ڈائیلاگ عام طور پر خارجہ پالیسی، اقتصادی تعاون اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
قطر مشرق وسطیٰ میں سفارتکاری اور مذاکرات کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ دوحہ نے حالیہ دنوں میں کئی ممالک کے ساتھ بات چیت میں سہولت کاری کی ہے۔ یونان کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز قطر کی اسی سفارتی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت وہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.