پاکستان سری لنکا ٹیسٹ سیریز 9 نومبر سے، بابر کی قیادت میں تین نئے کھلاڑیوں کو موقع
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 9 نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے۔ بابر اعظم کی قیادت میں 14 رکنی اسکواڈ میں تین نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔

لاہور: پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 9 نومبر سے شروع ہو رہی ہے۔ پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں اور دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہے۔ سیریز سے قبل سری لنکا کی ٹیم 4 سے 6 نومبر تک اسلام آباد کلب میں پی سی بی پیٹرنز الیون کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ کھیل رہی ہے۔
پاکستان نے 24 اکتوبر کو اس سیریز کے لیے 14 رکنی ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا، جس کی قیادت بابر اعظم کر رہے ہیں۔ اسکواڈ میں تین نئے بیٹرز کو پہلی بار ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے: سمیر منہاس، محمد طحہ اور محمد سلیمان۔ اس کے علاوہ عبداللہ فضل، اعظم اویس، علی عثمان، عرفات منہاس، محمد عباس، محمد غازی غوری، رضا اللہ، سعد بیگ، سلمان علی آغا اور سعود شکیل اسکواڈ میں شامل ہیں۔ دو وکٹ کیپرز، محمد غازی غوری اور سعد بیگ، بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
اسکواڈ سے کئی تجربہ کار کھلاڑی باہر ہیں۔ سابق کپتان شان مسعود اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں، اور نہ ہی محمد رضوان اور امام الحق کو جگہ ملی ہے۔ اسپنرز ساجد خان اور نعمان علی بھی ٹیم سے باہر ہیں۔ یہ انتخاب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں نئی نسل کو موقع دینے کی واضح کوشش ظاہر کرتا ہے۔ بابر اعظم کی قیادت میں یہ ایک نئی شروعات ہے، اور نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے موقع پر خود کو ثابت کرنا ہوگا۔
سری لنکا کی ٹیم کی قیادت کسل مینڈس کر رہے ہیں۔ ان کے اہم اوپنر پاتھم نسانکا ہیمسٹرنگ کی انجری کی وجہ سے سیریز سے باہر ہو گئے ہیں، اور ان کی جگہ لاہیرو ادارا کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ سری لنکا کے اسکواڈ میں دنیش چندیمل، کامندو مینڈس، دھننجایا ڈی سلوا، پرباتھ جے سوریا، لاہیرو کمارا، اسیتھا فرنینڈو اور دلشان مدوشنکا جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔ کامندو مینڈس نے ون ڈے سیریز کے فائنل میں 131 رنز بنائے تھے۔
وارم اپ میچ میں پی سی بی پیٹرنز الیون کی قیادت سعد بیگ کر رہے ہیں۔ اس 13 رکنی ٹیم میں چھ کھلاڑی ٹیسٹ اسکواڈ کے بھی رکن ہیں۔ پی سی بی نے کہا ہے کہ وارم اپ میچ کے بعد دو فاسٹ بولرز کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا، جس سے اسکواڈ 16 رکنی ہو جائے گا۔ اس دوڑ میں محمد سلمان، شعیب اختر جونیئر، علی شبیر، ثاقب خان اور عبید شاہ شامل ہیں۔
پاکستان اس سیریز میں ون ڈے سہ فریقی سیریز کی جیت کے اعتماد کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جس میں اس نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر 326 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ عرفات منہاس اس سیریز کے بہترین کھلاڑی رہے تھے۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے دونوں ٹیسٹوں کے لیے تیز پچیں تیار کرنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ پاکستانی فاسٹ بولرز کو فائدہ ملے۔ اگر پاکستان یہ سیریز جیتتا ہے تو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔
وارم اپ میچ کی تفصیل بھی اہم ہے۔ پی سی بی پیٹرنز الیون میں شامل چھ کھلاڑی ٹیسٹ اسکواڈ کے بھی رکن ہیں، جن میں عبداللہ فضل، علی عثمان، اعظم اویس، محمد سلیمان، محمد طحہ اور سمیر منہاس شامل ہیں۔ یہ نوجوان کھلاڑی وارم اپ میچ میں اپنی صلاحیت دکھا کر ٹیسٹ ٹیم میں جگہ پکی کرنا چاہیں گے۔ فاسٹ بولنگ کی دوڑ میں شامل پانچ بولرز کے لیے بھی یہ میچ اہم ہے، کیونکہ دو کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا۔
سری لنکا کے لیے کامندو مینڈس اہم کھلاڑی ہوں گے، جنہوں نے ون ڈے سیریز کے فائنل میں 131 رنز بنائے تھے۔ ان کے ساتھ دنیش چندیمل اور دھننجایا ڈی سلوا کا تجربہ بھی ٹیم کے کام آئے گا۔ پاکستان کے لیے یہ سیریز نئے دور کی شروعات ہے، کیونکہ ٹیم میں کئی نئے چہرے ہیں۔ اگر نوجوان کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا مستقبل مضبوط ہو سکتا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.