یورپی یونین کا خلیجی ممالک کے لیے شینگن ویزا چھوٹ کا عمل شروع، ابھی ویزا فری نہیں
یورپی یونین نے سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان اور قطر کے لیے شینگن ویزا چھوٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف عمل کا آغاز ہے، ابھی ویزا فری سفر ممکن نہیں اور ویزا درکار ہے۔

یورپی یونین کی کونسل نے 19 اکتوبر 2026 کو پانچ خلیجی ممالک کے لیے شینگن ویزا چھوٹ کے عمل کے آغاز کی حمایت کر دی ہے۔ یہ ممالک سعودی عرب، بحرین، کویت، عمان اور قطر ہیں۔ تاہم یہ بات انتہائی اہم ہے کہ یہ فیصلہ ابھی ویزا فری سفر نہیں دیتا۔ ان پانچوں ممالک کے شہریوں کو فی الحال شینگن علاقے کے مختصر دوروں کے لیے ویزا لینا ہی پڑے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
کونسل نے ہر ملک کے لیے علیحدہ علیحدہ نتائج منظور کیے، جن میں یورپی کمیشن کے ویزا چھوٹ کا عمل شروع کرنے کے ارادے کا خیر مقدم کیا گیا۔ ہر ملک کے لیے دستاویزات کے نمبر بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں بحرین کے لیے ایس ٹی 14621، کویت کے لیے ایس ٹی 14626، عمان کے لیے ایس ٹی 14627، قطر کے لیے ایس ٹی 14629 اور سعودی عرب کے لیے ایس ٹی 14630 شامل ہیں۔ یہ کونسل کا پہلا باضابطہ قدم ہے، لیکن یہ خود کوئی ویزا چھوٹ نہیں ہے۔
اس عمل کے تحت یورپی کمیشن ہر ملک کا جائزہ لے گا کہ آیا وہ ویزا چھوٹ کے لیے مقرر کردہ معیارات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ ان معیارات میں سفری دستاویزات کی سیکیورٹی، سرحدی انتظام، غیر قانونی نقل مکانی کے خطرات اور عوامی امن و امان جیسے امور شامل ہیں۔ ویزا کی ذمہ داری ختم کرنے پر صرف اس صورت میں غور کیا جائے گا جب متعلقہ ملک تمام معیارات کو مکمل طور پر پورا کر لے۔
اگر کوئی ملک معیارات پر پورا اتر جاتا ہے تو کمیشن اسے ویزا فری فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کرے گا، جسے پھر کونسل اور یورپی پارلیمنٹ کو منظور کرنا ہوگا۔ اس پورے عمل کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے اور یہ واضح نہیں کہ ویزا فری سفر کب ممکن ہوگا۔ کمیشن نے 2022 میں کویت اور قطر کے لیے ویزا فری سفر کی تجویز پیش کی تھی، جو ابھی تک منظور نہیں ہو سکی۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو پہلے ہی یورپی یونین کے ساتھ ویزا چھوٹ کا معاہدہ حاصل ہے، جو مئی 2015 سے عارضی طور پر نافذ ہے۔ اس لیے یہ نیا عمل صرف ان پانچ ممالک کے لیے ہے۔ خلیجی ممالک میں رہائش رکھنے والے افراد، بشمول گولڈن ویزا ہولڈرز، کو بھی اس عمل سے خود بخود ویزا فری سفر نہیں ملے گا، کیونکہ یہ سہولت صرف ان ممالک کے شہریوں کے لیے ہوگی۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.