دیوالی پر رنگولی کیوں بنائی جاتی ہے؟ خوشحالی، مہمان نوازی اور فطرت سے جڑی روایت
دیوالی پر گھروں کے دروازے پر رنگولی بنانا صرف سجاوٹ نہیں ہے۔ یہ مہمانوں اور دیوی لکشمی کے استقبال، خوشحالی اور فطرت سے ہم آہنگی کی قدیم روایت ہے۔

نئی دہلی: دیوالی کے موقع پر بھارت میں گھروں کے دروازے پر رنگولی بنانا ایک قدیم روایت ہے۔ رنگولی عام طور پر رنگین پاؤڈر، چاول کے آٹے، پھولوں کی پنکھڑیوں اور دیگر قدرتی مواد سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں ہندسی ڈیزائن، پھول، دیے اور مور جیسی شکلیں بنائی جاتی ہیں۔
روایتی طور پر رنگولی گھر کے دروازے پر مہمانوں اور دیوتاؤں کے استقبال کی علامت کے طور پر بنائی جاتی ہے۔ دیوالی پر خاندان دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کے استقبال کے لیے رنگین نمونے بناتے ہیں۔ کئی روایات میں رنگولی کو خوش قسمتی، خوشی اور فراوانی سے جوڑا جاتا ہے۔
جنوبی بھارت کے کئی حصوں میں رنگولی چاول کے آٹے سے بنائی جاتی تھی، جسے چیونٹیاں، پرندے اور دیگر چھوٹے جاندار کھا سکتے تھے۔ یہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے اور کھانا بانٹنے کے روایتی عقیدے کو ظاہر کرتا ہے۔ تمل ناڈو میں اسے کولم اور آندھرا پردیش و تلنگانہ میں مگو کہا جاتا ہے۔
دیوالی 2026 میں اتوار، 8 نومبر کو منائی جا رہی ہے، اور یہ تہوار دھن تیرس سے بھائی دوج تک پانچ دنوں پر محیط ہے۔ اس سال دھن تیرس 6 نومبر کو اور بھائی دوج 11 نومبر کو ہے، جب کہ دیوالی کی اصل رات لکشمی پوجا کی رات ہے۔ دیوالی ہندو مہینے کارتک کی اماوس، یعنی نئے چاند کی رات کو منائی جاتی ہے، اسی لیے اس کی تاریخ ہر سال بدلتی رہتی ہے۔ رنگولی اسی تیاری کا ایک اہم حصہ ہے۔
لفظ رنگولی سنسکرت کے لفظ رنگاولی سے نکلا ہے، جس کا مطلب رنگوں کی قطاریں ہے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق جب رام چودہ سال کی جلاوطنی کے بعد ایودھیا واپس آئے تو لوگوں نے ان کے استقبال کے لیے شہر کو دیوں، پھولوں اور رنگین نمونوں سے سجایا تھا۔ دیوالی کو اسی واپسی کی خوشی اور روشنی کی اندھیرے پر فتح کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، اور دروازے پر رنگولی اسی استقبال کی روایت کو آج بھی زندہ رکھتی ہے۔
دیوالی کی رات کو لکشمی پوجا کی جاتی ہے۔ روایت ہے کہ لکشمی صاف، روشن اور خوبصورتی سے سجے ہوئے گھروں میں آتی ہیں، اس لیے خاندان دیوالی سے پہلے گھروں کی صفائی کرتے ہیں اور دروازے پر رنگولی بناتے ہیں۔ کئی گھروں میں لکشمی کے چھوٹے قدموں کے نشان بھی بنائے جاتے ہیں، جو گھر کے اندر کی طرف جاتے ہیں، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ دیوی اندر آ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رنگولی صرف سجاوٹ نہیں، بلکہ دعا، امید اور استقبال کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
رنگولی کے ڈیزائنوں میں ہر شکل کا اپنا مطلب ہوتا ہے۔ کمل پاکیزگی اور لکشمی سے جوڑا جاتا ہے۔ دیا روشنی، امید اور اندھیرے پر روشنی کی فتح کی علامت ہے۔ مور خوبصورتی اور خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ گول ڈیزائن مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ قدرتی رنگ ہلدی، سندور اور چاول کے آٹے سے بنائے جاتے تھے، اور گیندے کے پھولوں کی رنگولی آج بھی پسند کی جاتی ہے۔
بھارت کے مختلف علاقوں میں اسی فن کے مختلف نام اور انداز ہیں۔ تمل ناڈو میں اسے کولم کہا جاتا ہے۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اسے مگو کہا جاتا ہے۔ بنگال میں اسے الپنا کہا جاتا ہے، جو چاول کے پیسٹ سے بنائی جاتی ہے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں اسے منڈنا کہا جاتا ہے، جو اکثر سفید چونے اور سرخ مٹی پر بنائی جاتی ہے۔ کیرالہ میں پھولوں سے بنی پوکلم مشہور ہے، جو خاص طور پر اونم سے جڑی ہے۔ ان مختلف ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فن صرف ایک علاقے کا نہیں، بلکہ پورے بھارت کی مشترکہ ثقافت کا حصہ ہے۔
رنگولی بنانا عام طور پر خاندان کا مشترکہ کام ہوتا ہے۔ خواتین اور بچے مل کر پہلے فرش صاف کرتے ہیں، پھر ڈیزائن بناتے ہیں اور اس میں رنگ بھرتے ہیں۔ اس کے باوجود رنگولی کا بنیادی پیغام نہیں بدلا، یعنی گھر کو صاف رکھنا، مہمانوں کا استقبال کرنا اور روشنی اور خوشحالی کی امید رکھنا۔ دیوالی کی رات جب دیے جلتے ہیں اور رنگولی ان کی روشنی میں چمکتی ہے، تو یہ منظر اسی پیغام کو سب سے خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔



Join the conversation 0 approved
Thoughtful discussion makes every story stronger. Share your perspective respectfully — comments appear publicly only after editorial approval.
Be constructive, stay relevant and keep it respectful.
Start the discussion — your comment could be the first one readers see after approval.
Leave a comment
Use a real name and keep your message clear, helpful and on topic.